صدر آزاد کشمیر کا کا یوم سیاہ کے موقع پر پیغام

بسم اللہ الرحمان الرحیم 

27اکتوبر جموں وکشمیر کی تاریخ میں ایک تاریک دن ہے۔ آج سے 73سال پہلے کشمیریوں کی خواہشات کو کچلتے ہوئے 1947 میں بھارتی حکمرانوں اور مہاراجہ کشمیر نے ایک سازش کے ذریعے جموں وکشمیر کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔
 جموں وکشمیر کے لوگ چاہتے تھے کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کریں لیکن مہاراجہ نے پہلے ہندوستان کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں سے فوجی جموں وکشمیر میں داخل کیے تاکہ وہ ڈوگرہ فوج کی مدد کر سکیں اور پھر اُس نے ایک سازش کے ذریعے بھارتی فوج سے ہماری ریاست پر حملہ کروادیا۔ یہ دن کشمیریوں کی نسل کشی کے آغازکا دن تھا۔
 آج تک بھارتی قابض حکام پانچ لاکھ کشمیریوں کو شہید کر چکے ہیں۔ قتل عام معمول ہے اور ہزاروں کشمیریوں کو بینائی سے محروم کر دیا گیا ہے۔ عورتوں کی عزت پر حملہ ایک جنگی ہتھیار کے طور پر کیا جاتا ہے۔ پانچ اگست2019کو انتہاء پسند بھارتی حکام نے ایک مرتبہ پھر کشمیر پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا۔
 اور اب بھارت کے طول و ارض سے ہندوؤں کو لاکر کشمیر میں آباد کیا جا رہا ہے اور کشمیریوں سے اُن کی شہریت اور اُن کا وطن چھینا جا رہا ہے۔ لیکن اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ادارے محض تماشائی بن کر رہ گئے ہیں۔ ہم اُن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارتی جارحیت کو ختم کرنے کے لئے فوری اقدامات کریں۔ 
ہم دنیا بھر کی پارلیمنٹس اور ذرائع ابلاغ عامہ کے شکر گزار ہیں جنہوں نے کشمیریوں کے لئے اپنی آواز بلند کی۔
 ہم بھارت کے تمام فسطائی اقدامات کی مذمت کرتے ہیں اور یہ عہد کرتے ہیں کہ جموں وکشمیر پر بھارت کے قبضے کو ختم کرنے کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ آج ساری دنیا میں یوم سیاہ منایا جا رہا ہے۔
 تحریک آزادی کشمیر ایک بین الاقوامی تحریک بن چکی ہے۔ آج کے دن ہم بہادر کشمیری قوم اور قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور یہ عہد کرتے ہیں کہ اپنی سرزمین کو بھارت کے نوآبادیاتی پنجے سے آزاد کروا کر ہی دم لیں گے۔ آزادی کا سورج ضرور طلوع ہو گا اور ہمیں کامیابی نصیب ہو گی۔ خدا ہمارا حامی و ناصر ہو۔ 
آزادکشمیر زندہ آباد پاکستان پائندہ آباد
Download as PDF