صدارتی سیکرٹریٹ ، کیمپ آفس کشمیر ہاؤس اسلام آباد

کراچی ( )آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ کشمیر کی آزادی کی دو سو سالہ پرانی تحریک کو کچلنا بھارت کے بس میں نہیں ہے۔ کشمیر کی موجودہ تحریک کی جڑوں میں خطہ پونچھ کے ان شہداء کا خون بھی شامل ہے جنہوں نے 1832میں اپنی گرد نیں کٹوانے اور اپنے زندہ جسموں سے کھال اتروانے کو غلامی اور ذلت کی زندگی پر ترجیح دی تھی۔ کراچی کونسل آن فارن ریلیشنز کے زیر اہتمام ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ بہادر اور غیور قوموں کی تاریخ میں ماہ و سال اہم نہیں ہوتے بلکہ اصل اہمیت کسی تحریک کے اعلیٰ مقاصد اور نصب العین ہوتا ہے جو قوم کو متحرک رکھتا ہے اور منزل کے حصول تک مسلسل قربانیاں دینے پر ابھارتا رہتا ہے۔ کانفرنس سے کونسل کے چیئرمین اکرام سہگل، سیکرٹری جنرل ہمابقائی، سابق سفیر سنٹر فار انٹرنیشنل اسٹرٹیجک سٹڈیز کے ایگزیکٹیوڈائریکٹر علی سرور نقوی نے بھی خطاب کیا۔ صدر سردار مسعود خان نے کانفرنس کے شرکا ء کو یاد دلایا کہ 1832میں جب پونچھ کے حریت پسند عوام اس وقت کے ظالم اور جابر حکمرانوں گلاب سنگھ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے تو اس تحریک بغاوت کے قائدین سبز علی خان، ملی خان اور شمس خان کو بغاوت کے جرم میں ان کے زندہ جسموں سے کھالیں اتار کر ان کی لاشوں کو درخت کے ساتھ لٹکا دیا گیا تھا۔ آزادی اور حریت کی تحریک کے ان ہیروز کے کارنامے اور قرنیاں جذباتی گیتوں کی صورت میں آج بھی بیان کئے جاتے ہیں اور آزادی و حریت کے ان اولین مجاہدوں کے مزارات ظلم و نا انصافی کے خلاف ان کے عزم و حوصلے کی علامت کے طور پر باقی ہیں۔ صدر آزادکشمیر نے 1931کے شہدائے کشمیر کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا 13جولائی1931کو مہاراجہ ہری سنگھ کے ظلم و ناانصافی اور غلامی کے خلاف آواز بلند کرنے والے عبد القدیر کے خلاف بغاوت کے مقدمہ کی سماعت کے دوران سنٹرل جیل سرینگر کے سامنے جمع ہونے والے مسلمانوں میں سے 22کو شہید کر دیا گیا تھا جس نے اس تحریک کو ایک نئی مہمینر بخشی ہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ 1947میں جب برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان معرض وجود میں آیا تو خطہ کشمیر کے مسلمانوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں امید کی ایک نئی کرن نظر آئی کیونکہ ریاست کشمیر کو عوام تقسیم ہند کے فارمولے میں طے شدہ اصولوں کے مطابق اور جغرافیائی، تاریخی اور نظریاتی مماثلت کی وجہ سے پاکستان کا حصہ بننا تھا لیکن دھوکہ دہی، سازش اور طاقت کے استعمال سے بھارت نے کشمیر پر قبضہ کر کے اسے پاکستان کا حصہ نہ بننے دیا۔ 1947کے ماہ اکتوبر اور نومبر کے دوران بھارت نے کشمیر پر اپنا قبضہ جمانے کے لئے دو لاکھ پینتیس ہزار کشمیری مسلمانوں کو قتل کر دیا اور پانچ لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال کر پاکستان میں دھکیل دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف یہی نہیں بلکہ 1947سے اب تک کشمیر کے نصف ملین شہری اپنی جانوں کی قربانی دے کر شمع آزادی کو روشن رکھے ہوئے ہیں اور بھارت سے مکمل آزادی تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے لئے پر عزم ہیں۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیر کے تنازعہ، وہاں موجود انسانی بحران اور بھارتی مظالم ختم کرنے کے لئے کثیر الجہتی سفارت کاری کی اشد ضرورت ہے تاکہ کشمیری عوام کو پر امن اور جمہوری طریقوں سے اپنا مستقبل طے کرنے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ سترہ سال تک طالبان کے ساتھ جنگ کرنے کے بعد آج ان سے مذاکرات کر رہا ہے تو آخر کیا وجہ بھارت کو کشمیریوں اور پاکستان سے بات چیت کے ذریعے تنازعہ کشمیر حل کرنے کے لئے نہیں کہا جاتا۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اپنے چارٹر کے آرٹیکل 33اور 34کے مطابق سفارت کاری شروع کر لے اور کشمیر پر اپنا نمائندہ خصوصی مقرر کرے تاکہ وہ سفارتی کوششوں کو منطقی انجام تک پہنچائے۔ آزادکشمیر کے صدر نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پاکستان دنیا کی بڑی معاشی قوت اور توجہ کا مرکز بننا پاکستان کا مقدر ہے اور یہ منزل حاصل کرنے کشمیر کے عوام پاکستان کے معاون ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہر قسم کے خطرات مول لیکر ہمیشہ کشمیریوں کی آزادی اور حق خودارادیت کی حمایت کی جس کے لئے اہل کشمیر پاکستان کے احسان مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان ہی کشمیر کی آزادی کا ضامن ہو سکتا ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ورلڈ آرڈر بدل رہا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب ٹیکنالوجی کا انقلاب بھارت جیسی نو آبادیاتی استعماری قوتوں کی باقیات کو بہالے جائے گا۔ کشمیر کے بارے میں مختلف فارمولوں اور آؤٹ آف بکس حل کی تجاویز پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ جب بھارت بات چیت کے لئے تیار نہیں ہوتا اس طرح کی تجاویز خود کلامی اور بھارت کو یکطرفہ رعایت دینے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ #
صدارتی سیکرٹریٹ ، کیمپ آفس کشمیر ہاؤس اسلام آباد
04-01-2019
***
میرپور ( ) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ آنے والے سالوں میں سیاحت کا آزادکشمیر کی معاشی خودکفالت اور اقتصادی ترقی سب سے اہم کردار ہو گا۔ اثار قدیمہ، درگاہوں اور خانقاہوں اور سیاحت کا باہم گہرا تعلق ہے اور ان تمام شعبوں کو ایسی پالیسی بنانا چاہیے جس سے سیاحت کو فروغ دینے کے ساتھ اپنے تاریخی اور تہذیبی ورثے کو محفوظ کیا جائے اور سیاحت کو فروغ دینے کے ساتھ اپنے تاریخی اور تہذیبی ورثے کو محفوظ کیا جائے اور سیاحت کو فروغ دیکر ریاست کی ترقی اور خوشحالی کی مطلوبہ ہدف اور منزل حاصل کیا جائے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز میر پور میں آزادجموں وکشمیر کے محکمہ سیاحت و آثار قدیمہ کی طرف سے تین روزہ آرکیالوجی کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس سے میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حبیب الرحمن ، آزادکشمیر کی سیکرٹری سیاحت، آثار قدیمہ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی مدحت شہزاد، سابق سفیر عارف کمال اور ڈاکٹر رخسانہ خان نے بھی خطاب کیا۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ محکمہ کی سیکرٹری مدحت شہزاد کی اس اہم موضوع پر کانفرنس کرانے پر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر جہاں اپنے شاندار آب و ہوا اور قدرتی حسن سے دنیا میں اپنا ثانی نہیں رکھتا وہاں قدیم تاریخ اور صدیوں پرانے تہذیب و تمدن کی حامل ریاست بھی جس میں آج بھی بے شمار تاریخی عمارات، مذہبی مقامات اور روحانی شخصیات سے منسوب درسگاہیں ، خانقاہیں ، مندر اور ٹمپل ہیں جن کی زیارت اور سیاحت کے لئے دور دور سے لوگ کھینچے چلے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قومی ورثے کی حفاظت اور ان کی دیکھ بھال اور تزئین و آرائش کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ آرکیالوجیکل سائنس کو بہتر ترقی دیکر ہم معیشت کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا حوالہ دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ اس عظیم منصوبے سے آزادکشمیر کی معیشت میں ایک انقلابی تبدیلی آئے گی۔ اس منصوبے کے تحت پن بجلی کے میگا پراجیکٹس کے علاوہ آزادکشمیر کے مختلف اضلاع کو باہم ملانے والی شاہرات اور میر پور ایک بڑے صنعتی زون کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے خطہ میں کئی تہذیبیں گزری ہیں لیکن بدقسمتی سے ان تہذیبوں کے آثار اور تاریخ کو محفوظ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔
**

Download as PDF