مظفرآباد ( 04-12-2018 )صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا

مظفرآباد ( )صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت کو چین پاکستان اقتصادی راہداری پر اعتراض اُٹھا نے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ آزاد کشمیر گلگت بلتستان ، لداخ اور وادی کشمیر ریاست جموں و کشمیر کی مختلف اکائیاں ہیں اور کشمیر زمانہ قدیم سے شاہراہ ریشم کے ذریعے چین اور وسط ایشیائی خطوں کے درمیان تجارت کا حصہ رہا ہے ۔ وہ وقت دور نہیں جب پورا ریاست جموں و کشمیر چین پاکستان اقتصادی راہداری کا حصہ بن کر بین الاقوامی اقصادی تعاون اور تجارت میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی میں ’’ چین پاکستان اقتصادی راہداری اور علاقائی روابط ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سیمینار سے سی پیک سینٹر فار ایکسی لینس اسلام آباد کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شاہد رشید ، آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلیم عباسی ، سیکرٹری سیاحت و اطلاعات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی مدحت شہزاد اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ۔ صدر آزاد کشمیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ سی پیک چین بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ ہے ۔ روڈ اینڈ بیلٹ منصوبہ تین براعظموں کو باہم جوڑنے والا ایک ایسا منصوبہ ہے جس کی کل مالیت ایک کھرب ڈالر ہے اور اس میں اب تک دنیا کے ستاسٹھ ممالک شامل ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اور چین کے ساتھ اس کے خصوصی تاریخی روابط کے باعث پاکستان کو چین پاکستان کو اقتصادی راہداری کا سب سے زیادہ فائدہ ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی کا دور ختم ہو چکا ہے ۔ اور اب دنیا اقتصادی تعاون اور تجارتی تعلقات کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب ممالک ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہو کر اکنامک جیو گرافی کا روپ دہار ہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کوئی تخیل نہیں ہے اور نہ ہی ایسا منصوبہ ہے جو ابھی پائپ لائن ہیں بلکہ اس منصوبے پر تیزی سے عملدرآمد ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے چین کے ساتھ 1960 کی دہائی سے تعلقات چلے آ رہے ہیں جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مستحکم تر ہو رہے ہیں ۔ گوادر پورٹ کے بعد کراچی ، جیوانی ، پسنی اور گڈانی جیسے پورٹس کو بھی ترقی دی جائے گی ۔ جبکہ سی پیک کے تحت توانائی ، صنعت ، فائبر آپٹیکس بنیادی ڈھانچے اور سیاحت سمیت دیگر شعبوں کی ترقی کا ایک طویل سلسلہ شروع ہونے والا ہے جس کے لیے سی پیک کو توسیع دی جائے گی جو 2030 تک جاری رہے گی ۔
سردار مسعود خان نے کہا کہ سی پیک کے تحت آزاد کشمیر میں چار میگا پراجیکٹس منصوبے مکمل کیے جائیں گے جن میں سے کروٹ میں 720 میگا واٹ پن بجلی کا منصوبہ مکمل ہو چکا ہے جب کہ میرپور میں انڈسٹریل زون سمیت دیگر تین منصوبوں پر عملدرآمد ہونا باقی ہے ۔ انہوں نے نیلم ،جہلم منصوبے کے منفی ماحولیاتی اثرات اور آزاد کشمیر کے لوگوں کے حقوق کے معاملات کو ابتداء میں ہی حل کیا جائے گا ۔ صدر سردار مسعود خان نے آزاد کشمیر کی جامعات اور تعلیمی اداروں کو ہدایت کی کہ وہ سی پیک اور دیگر منصوبوں سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کے لیے طلبہ کو ایسی تعلیم دیں جس کی مستقبل میں ضرورت ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبے کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے آزاد کشمیر میں سیاحت ترقی کے لیے سیاحتی راہداری کا منصوبہ بھی شروع کیا جائے گا جس سے ریاست میں جاندار معاشی سر گرمیوں کے علاوہ بے روزگاری کو ختم کرنے میں مدد ملے گی ۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلیم عباسی نے کہا کہ سی پیک منصوبے کے بارے میں آزاد کشمیر میں عوام و خواص میں مکمل آگاہی کی کمی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک ایک ایسا منصوبہ ہے جس کا براہ راست تعلق عوام کی بہبود اور اُن کی معاشی خوشحالی سے ہے ۔ اس منصوبے کے بارے میں عوام میں پائی جانے والی غلط فہمیوں یا معلومات کمی کو دور کرنے کے لیے سیمینارز ، کانفرنسز اور ذرائع ابلاغ عامہ کا موثر استعمال کیا جانا چاہیے اور آج کا سیمینار بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی جامعات اس طرح کے موضوعات پر بحث و مباحثہ کے لیے درست پلیٹ فارم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری یہ خوش قسمتی ہے کہ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے ایک ایسے خطہ میں ہے کہ ایشیا اور وسط ایشیا میں تمام کارباری اور تجارتی سر گرمیوں کا مرکز بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک بالخصوص آزاد کشمیر کے طلبہ و طالبات کو تعلیمی اعتبار سے اس قابل ہونا چاہیے کہ مستقبل کے بہتر اقتصادی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے اپنے آپ کو مطلوبہ تعلیم و تربیت کے ہتھیاروں سے مسلح کر لیا تو سی پیک سے حاصل ہونے والے اقتصادی فوائد سے غربت ، بے روزگاری اور عدم مساوات جیسی محرومیوں کو ختم کرنے میں مدد ملے گی ۔

Download as PDF