صدارتی سیکرٹریٹ، مظفرآباد

کراچی ( )صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے تنازعہ کشمیر کو طاقت اور فوج کی مدد سے حل کرنے کی پالیسی سے خطے کا امن تہہ و بالا ہو جائے گا ۔ بھارت کے حکمرانوں کی یہ بھول ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر بسنے والے بے گناہ عورتوں اور بچوں کو گولیوں کا نشانہ بنا کر آزاد کشمیر کے عوام کو تحریک آزادی کشمیر کی حمایت سے روک لیں گے۔ آزاد کشمیر کے عوام کو مسلسل ننگی جارحیت کا نشانہ بنا کر بھارت عوام کو اپنے دفاع میں بندوق اٹھانے پر مجبور نہ کرے ۔ جمعرات کے روز آزاد کشمیر کی وادی نیلم کے اشکوٹ سیکٹر میں بھارتی فوج کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ اور اُس کے نتیجے میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہاکہ بھارتی قابض فوج مسلسل 2003 کے فائر بندی معائدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول کے پار سے آزاد کشمیر کے شہریوں خاص طور پر خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو نہایت قابل مذمت عمل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی جارحانہ اقدمات سے آزاد کشمیر کے تمام شہریوں میں بالعموم اور لائن آف کنٹرول کے قریب رہنے والوں میں بالخصوص شدید اشتعال اور غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کی اشتعال انگیز بلا جواز فائرنگ کسی بھی وقت بڑے حادثے کا موجب بن سکتی ہے جس کی تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد ہو گی ۔ صدر سردار مسعود خان نے بھارتی فوج کی جارحانہ کارروائیوں کا موثر جواب دینے اور آزاد کشمیر کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پاک فوج کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کا بچہ بچہ افواج پاکستان کے شانہ بشانہ مادر وطن کے دفاع اور سلامتی کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارتی فوج کے مظالم اور غیر انسانی ہتھکنڈوں نے وہاں کے نوجوانوں کو اپنے دفاع اور اپنی عزت و حرمت کی حفاظت کے لیے ہتھیار اُٹھانے پر مجبور کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکمرانوں کی غلط پالیسیوں نے خطہ میں امن اور استحکام کو شدید ترین خطرات سے دو چار کر دیا ہے ۔ صدر آزاد کشمیر نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارتی فوج کی وحشیانہ بلا امتیاز فائرنگ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے بھارت کو جنگی جنون پیدا کرنے سے روکے ۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض فو جی محاصرے اور گھر گھر تلاشیوں کے دوران شدید سردی میں عمر رسیدہ عورتوں ، مردوں اور کم سن بچوں گھنٹوں گھروں کے باہر کھڑا رکھتے ہیں اور انہیں اپنی سرزمین پر اپنی مرضی سے زندہ رہنے کا حق بھی نہیں دیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں موجودہ بھارتی فوج کو انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیوں سے روکنے اور مقبوضہ علاقے کی خواتین اور بچیوں کے خلاف جنسی تشدد کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے سے روکنے کے لیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی برادری کشمیر کی صورتحال کا فوری نوٹس لے اور بھارت کو مظالم سے روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرے ۔ صدر سردار مسعود خان نے مقبوضہ ریاست کے صوبہ جموں کے رام بن قصبہ میں بھارتی ایجنٹوں کے ہاتھوں کم سن مسلمان بچی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا بھی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ کشمیر ی عوام کی جدوجہد آزادی بالاخر کامیاب ہو گی کیونکہ کشمیری عوام اپنی تحریک کو منطقی انجام تک لے جانے کے لیے پر عزم ہیں ۔ صدر سردار مسعود خان نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کے تنازعہ کو بات چیت اور پر امن ذرائع سے سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے ۔

Download as PDF