صدارتی سیکرٹریٹ ، مظفرآباد

امریکہ ، شمالی کوریا سفارتی ڈیڈ لاک کے خاتمہ نے مسئلہ کشمیر کے حل کی اُمید پیدا کر دی ۔ سردار مسعود خان
تنازعات کے پر امن اور سفارتی حل کی راہ میں کسی چیز کو رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہے ۔
آزاد کشمیر میں جنوبی کوریا کی توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ جنوبی کوریا کے سفیر سے بات چیت
اسلام آباد ( )صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان سے پاکستان میں جمہوریا کوریا کے سفیر کواک سنگ کیو نے کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی اور صدر کو یقین دلایا کہ اُن کا ملک آزاد کشمیر میں مختلف شعبوں خاص طور پر توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری جاری رکھے گا ۔ ملاقات کے دوران جمہوریا کوریا کے سفیر نے مظفرآباد کے قریب پتر ینڈ ، میرپور میں نیو بانگ ، کوٹلی میں گل پور اور وادی نیلم میں آٹھمقام کے منصوبوں کا خاص طور پر ذکر کیاجن میں سے پتر ینڈ اور نیو بانگ کے منصوبے مکمل کر لیے گئے جبکہ گل پور منصوبے پر تعمیراتی کام جاری ہے اور آٹھمقام منصوبہ زیر غور ہے ۔ آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے آزاد کشمیر میں جنوبی کوریا کی سرمایہ کاری اور ریاست میں توانائی کے شعبہ کی ترقی میں کوریا کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کوریا کے سفیر کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کوریا کے سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کو انفارمیشن اینڈ کمیونیکشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی ) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی بھی دعوت دی ۔ صدر سردار مسعود خان نے جمہوریہ کوریا کی طرف سے پاکستان اور بھارت کے لیے اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین بھیجنے پر اُن کے ملک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فوجی مبصرین لائن آف کنٹرول کے دونون جانب جنگ بندی کی نگرانی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان بات چیت اور سفارتی پیشرفت اور اس ضمن میں جمہوریہ کوریا کے صدر مون جے ان کی امن اور سفارت کاری کی کامیابی کے لیے کوششوں نے جموں و کشمیر کے تنازعہ کے حل کے لیے بھی اس طرح کی پیشرفت کی نئی اُمید پیدا کر دی ہے ۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ تنازعات کے پر امن اور سفارتی حل کے لیے مصمم ارادے اور مضبوط عزم کے ساتھ تمام ممکنہ راستے اختیار کرنے چاہیے اور اس سلسلے میں کسی چیز کو رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔ صدر آزاد کشمیر نے جنوبی کوریا کے سفیر کو آزاد کشمیر کے درورے کی با ضابطہ دعوت بھی دی ۔ دریں اثناصدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے اپنے ایک بیان میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت مخالف مظاہروں میں شرکت کرنے والے نوجوانوں کے خلاف بھارتی فوج کی طرف سے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ علاقے میں آزادی اظہار رائے پر تازہ پابندیوں کا نوٹس لیں ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی بے حسی اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں رونما ہونے والے واقعات پر آنکھیں بند رکھنے کے رویے نے بھارت کو انسانی حقوق کی دھجیاں اُڑانے اور انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ۔ صدر آزاد کشمیر نے مذید کہا کہ یہ بھارت کی بھول ہے کہ وہ جبر و استبداد کے ہتھکنڈوں سے کشمیر کی تحریک آزادی کو کچلنے میں کامیاب ہو جائے گا ۔ جموں و کشمیر کے عوام نے یہ تہہ کر رکھا ہے کہ وہ ظلم و جبر کے باوجود اپنی تحریک آزادی کو مقاصد کے حصول تک جاری رکھیں گے ۔ صدر آزاد کشمیر نے مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارتی جیلوں میں قید سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی طویل قید تنہائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اُن کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جیلوں میں قید اکثر سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات قائم کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں سیاسی قیدیوں کو بلا جواز گرفتار کر کے جیلوں میں سالوں بند رکھنے والے بھارت کو اپنے آپ کو جمہوری ملک کہتے ہوئے شرم محسوس کرنی چاہیے ۔

Download as PDF