صدارتی سیکرٹریٹ ، کیمپ آفس کشمیر ہاؤس اسلام آباد

صدارتی سیکرٹریٹ ، کیمپ آفس کشمیر ہاؤس اسلام آباد

اسلام آباد( ) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے سرکاری اور نجی شعبے میں قائم جامعات پر زور دیاکہ وہ ملک میں معیاری تعلیم کے فروغ، غربت کے خاتمے، ملک کے تمام شہریوں کے لئے صحت کی معیاری سہولتوں سمیت پائیدار ترقی کے جملہ اہداف حاصل کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ یہ بات انہوں نے پاک چین فرینڈ شپ سینٹر میں کامسیٹس کے زیر اہتمام ’’پائیدار ترقی کے اہداف اور جامعات کا کردار‘‘کے موضوع پرسمینار سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سمینار کا اہتمام کامسیٹس یونیورسٹی نے بین الجامعاتی کنسورشیم برائے فروغ سماجی علوم اور اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے تعاون سے کیا تھا۔ اپنے خطاب میں صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا کے ترقی پذیر ممالک کو کم شرح تعلیم ، صحت کی ناکامی سہولتوں، عدم مساوات اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے گھمبیر مسائل کا سامنا ہے۔ ان تمام مسائل کی بنیادی وجہ معیاری انسانی وسائل کی کمی اور اعلیٰ درجے کی تحقیقی اداروں کی عدم موجودگی ہے۔ ملک کی جامعات اور دانش گاہوں کو ترقی اور قومی خوشحالی کا بنیادی زینہ قرار دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہماری جامعات کو اپنے طلبہ کے اندر موجودہ دور اور مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے اوروقت کے تقاضوں کے مطابق تعلیم دینے کے علاوہ پائیدار ترقی کے حقیقی تصور کے مطابق تعلیم دیکر عالمی ترقی کے ایجنڈہ 2030کے تیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جنوب کے ممالک اپنے شہریوں کو تعلیم کے یکساں مواقع، جنسی تغاوت، صنعتی ترقی کے لئے بنیادی ڈہانچے کی عدم دستیابی، ماحولیاتی آلودگیوں سے پاک شہری زندگی، فوڈ سکیورٹی، اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ ان مسائل سے نبردآزما ہونے اور ان کا حل تلاش کرنے کے لئے جہاں ملک کی جامعات ریسرچ اور تحقیق کریں وہاں طلبہ اور نوجوانوں کو تعلیم اور آگاہی کے ذریعے اس قابل بنائیں کہ وہ آگے بڑھ کر ان مسائل کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی پائیدار ترقی 2030کا ایجنڈے میں طے شدہ سماجی و اقتصادی ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے تعلیم اور جامعات کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیم کو بھی بطور ہدف شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2030ء تک ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ ملک کے تمام مرد و خواتین کو تعلیم، صحت اور خوشحال زندگی کے یکساں مواقع حاصل ہوں۔
صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے مزید کہا کہ آزادکشمیر کی حکومت اپنے تمام ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیات کے اصولوں اور پائیدار ترقی کے عنصر کو مد نظر رکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادجموں وکشمیرمیں قانون کی حکمرانی، شفافیت اور سماجی انصاف کی فراہمی کے علاوہ آزادکشمیر کی تمام پانچ جامعات نہ صرف پائیدار ترقی کے اہداف کو سپانسر کر رہی ہے بلکہ ان اہداف کو حاصل کرنے کے لئے بھر پور کردار بھی ادا کریں گی۔
قبل ازیں جرمنی کے سفیر مارٹن کوبلر سے ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے صدر سردار مسعود نے کہا کہ آزادکشمیر کے عوام کو تعلیم، صحت اور رسل و رسائل کی جدید سہولتیں مہیا کرنے کے لئے موجودہ حکومت تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے دور دراز علاقوں بالخصوص لائن آف کنٹرول سے ملحقہ علاقوں کو صحت کی بہتر سہولتوں کی فراہمی ہسپتالوں کے قیام اور مریضوں کو ہسپتالوں تک پہنچانے کے لئے ایمبولینسز کی ضرورت ہے اور اس سلسلہ میں حکومت جرمنی کی حکومت کے تعاون کا خیر مقدم کرے گی ۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ آزادکشمیر میں تعلیم حکومت کی ترجیحات میں سب سے نمایاں ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کی انتھک محنت سے آزادکشمیر پاکستان کے دوسرے علاقوں سے شرح تعلیم کے اعتبار سے سب سے آگے ہے۔ لیکن حکومت کو معیار تعلیم کو بلند کرنے کے ایک بہت بڑے چیلنج کا سامنا ہے جس کے لئے تمام وسائل اور کوششیں بروئے کار لائی جا رہی ہیں۔ صدر سردار سمعود خان نے مقبوضہ جموں وکشمیر انسانی حقوق کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے جرمنی کے سفیر کو بتایا کہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی افواج جنہیں کالے قوانین کے تھت بے پناہ طاقت استعمال کرنے کے اختیارات حاصل ہیں بے گناہ عورتوں، بچوں اور نوجوانوں کو ظلم و جبر کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ بھارتی فوج نے پیلٹ گنوں جیسے مہلک ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کر کے اب تک ہزاروں نوجوانوں کو زخمی اور آنکھوں کی بینائی سے محروم کر دیا ہے۔ صدر آزادکشمیر نے جرمن سفیر کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالے سے رپورٹ اور برطانوی پارلیمنٹ میں کل جماعتی پارلیمانی کشمیر گروپ کی رپورٹ سے بھی آگاہ کیا۔

Download as PDF