صدارتی سیکرٹریٹ ، کیمپ آفس کشمیر ہاؤس اسلام آباد

اسلام آباد ( ) صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے سانحہ پلوامہ پر فوری اور نہایت شدید رد عمل پر حکومت پاکستان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ بھارت کو انسانیت کے خلاف جرائم کی پاداش میں مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ بھارت اب زیادہ عرصے تک دنیا کو کشمیر کے بارے میں جھوٹی کہانی سنا کر بے وقوف نہیں بنا سکتا۔ طلبہ سوشل میڈیا اور ابلاغ کے دوسرے ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے بھارت کے مقابلے میں دنیا کو کشمیر کی سچی اور حقیقی کہانی بتائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز بین الاقوامی اسلام یونیورسٹی اسلام آباد میں یونیورسٹی اور جموں وکشمیر لبریشن سیل کے زیر اہتمام منعقدہ کشمیر سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ سیمینار سے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد یوسف الدرویش وفاقی وزیر علی محمد خان ، سابق وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) خالد نعیم لودھی، پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت نے کشمیر کو اپنے قبضہ میں رکھنے کے لئے کشمیریوں کو ختم کرنے کی جو پالیسی بنائی ہے وہ نہایت خطرناک ہے اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس پالیسی کے توڑ کے لئے مناسب حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نہتے عوام پر جو وحشیانہ مظالم کر رہا ہے اور جس طریقے سے نوجوانوں کو سر، گردن اور آنکھوں کا نشانہ لگا کر گولیاں مار کر شہید کر رہا ہے وہ جنیوا کنونشن کے تحت جنگی جرم ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت قابض فوج سویلین اور مسلح مقابلہ نہ کرنے والوں کے خلاف طاقت کا غیر متوازن اور گیر ضروری استعمال نہیں کر سکتی۔ جبکہ بھارت نے پچھلے دو سال میں تقریباً چھ ہزار نوجوانوں کو پیلٹ گنوں کے ذریعے زخمی جن میں سے ایک ہزار سے زیادہ ساری عمر کے لئے بینائی سے محروم ہو گئے ہیں اور یہ بات صرف ہم نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ الجزیرہ اور نیو یارک ٹائمز جیسے بڑے بڑے اخبارات اور جرائد بھی یہی بات کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات نہایت افسوسناک ہے کہ ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق اور غیر حکومتی تنظیمیں تو اپنا کردار ادا کر رہی ہیں لیکن برسلز، لندن، واشنگٹن اور دوسرے ورلڈ کیپٹیل میں خاموشی چھائی ہے ۔ اس خاموشی کے پیچھے ان ممالک کے بھارت کے ساتھ معاشی اور سیاسی مفادات ہیں لیکن وہ وقت دور نہیں جب دنیا اپنے تمام تر مفادات کے باوجود بھارت کے جھوٹ کو جھوٹ کہنے پر مجبور ہو گی۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن اور برطانیہ کے کل جماعتی پارلیمانی کشمیر گروپ کی رپورٹس کو کشمیریوں کی کامیابی قرار دیتے ہوئے صدر مسعود خان نے کہا کہ تاریخ میں پیلی مرتبہ بھارت کی حکومت بین الاقوامی برادری کی طرف سے ان رپورٹس کی شکل میں بھارت کو کئی سوالات کا سامنا ہے جن کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔1987سے لے کر اب تک بھارت کے ساتھ جتنے مذاکرات ہوئے ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ دنیا کو اب یہ بات سمجھنا ہو گی کہ کشمیری دہشت گرد نہیں ہیں بلکہ وہ اپنا جائز حق مانگنے کی وجہ بھارت ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوجی جنرل کہتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں صرف 230یا 250عسکریت پسند ہیں ہم اگر بھارت کی یہ بات درست بھی مان لیں تو سوال یہ ہے 250لوگوں کو مارنے کے لئے آخر 7لاکھ فوج بھارت نے مقبوضہ وادی میں کیوں رکھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کو 230عسکریت پسندوں سے کوئی خطرہ نہیں بھارت کو اصل خطرہ ان لاکھوں لوگوں جو پاکستان کا جھنڈا اٹھا کر گلیوں، سڑکوں، شہروں، قصبات میں نکل آئے اور گو انڈیا گو کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بھارت کشمیریوں کو دہشت زدہ کر رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے پاکستان اور کشمیریوں سے مذاکرات نہیں کر رہا ہے اور جموں وکشمیر کے لوگوں کو ان کے جمہوری اور شہری حقوق نہیں دے رہا جو صاف اس طرف اشارہ کرتا ہے وہ کشمیر کے مسئلہ کو پر امن ذرائع سے حل کرنے کے بجائے فوجی طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھتے ہوئے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پاس پھر جانا ہو گا جس کے لئے کشمیری کمیونٹی کو بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔

Download as PDF