صدارتی سیکرٹریٹ ، کیمپ آفس کشمیر ہاؤس اسلام آباد

آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مسیح برادری آزادکشمیر کے معاشرے کا لازمی حصہ ہیں۔ اسلام کے دئیے ہوئے اصولوں کے مطابق مسیح برادری سمیت تمام اقلیتوں کے مذہبی، سیاسی اور معاشی حقوق کا مکمل تحفظ کریں گے۔ آئندہ سال کرسمس کا تہوار ایوان صدر میں منائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار صدرآزادکشمیر نے ایوان صدر مظفرآباد میں مسیح برادری کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ صدرنے مسیح برادری کے وفد کو کرسمس کی مبارکباد دی اور کرسچن کمیونٹی کو درپیش مسائل سے آگاہی حاصل کی۔ صدرمسعود خان نے کہا کہ آزاد جموں وکشمیر ایک پرامن خطہ ہے جہاں انسانی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کی صدیوں پرانی روایت ہے جو آج بھی قائم ودائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسیح برادری سمیت دوسرے معاشی طور پر کمزور طبقات کو صحت، تعلیم سمیت جملہ معاشی اور سیاسی حقوق کا تحفظ کرنا حکومت آزادکشمیر کی ذمہ داری ہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ مسیح اور مسلم برادری سے تعلق رکھنے سینٹری ورکرز کو درپیش مسائل سے حکومت پوری طرح آگاہ اور ان مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کے لئے بھر پور اقدامات کئے جائیں گے۔ قبل ازیں ایلڈر ریاست کی قیادت میں ملنے والے وفد نے صدر ریاست کو بتایا کہ مظفرآباد ، میر پور اور بھمبر میں جہاں مسیح برادری سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد آباد ہے چرچ نہ ہونے کی وجہ سے اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی میں شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ وفد نے بتایا کہ مظفرآباد میں کیتھولک عیسائیوں کے لئے چرچ موجود ہے جبکہ پروٹسٹنٹ عیسائیوں کے لئے کوئی چرچ نہیں ہے جس کی وجہ سے پینتیس سو سے چار ہزار عیسائی شہری اپنی مذہبی عبادت کے سلسلہ میں مسائل سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورے آزادکشمیر میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ مسیح آباد ہیں جن کی زیادہ تعداد مظفرآباد، بھمبر اور میر پور میں ہے۔ مسیح برادری کے وفد نے صدر آزادکشمیر کو بتایا کہ مسیح برادری سے تعلق رکھنے والے خاندان 1949سے آزادکشمیر میں آباد ہیں لیکن ابھی تک انہیں با ضابطہ اور قانونی طور پر آزادکشمیر کا شہری تسلیم نہیں کیا گیا۔ اسی طرح مظفرآباد میں شوکت لائنز کے علاقہ میں زمین ہونے کے باوجود ابھی تک چرچ تعمیر نہیں کیا جا سکا جس کی بنیادی وجہ مقامی آبادی کی طرف سے چرچ کی مخالفت ہے۔ وفد نے مزید بتایا کہ مظفرآباد، میر پور اور بھمبر میں چرچ کی تعمیر کے علاوہ مسیح برادری اور سینٹری ورکرز کے لئے علیحدہ کالونی کی تعمیر بھی ہمارا ایک دیرینہ مطالبہ ہے جبکہ مسیح برادری کو پشتنی اور ڈومیسائل سرٹیفکیٹ نہ ہونے کے باعث ان کے بچوں کو تعلیمی اداروں میں داخلوں اور ملازمتوں کے حصول میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وفد نے بلدیاتی ملازمین اور سینٹری ورکرز کی تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی کے مسائل سے بھی صدر آزادکشمیر کو آگاہ کیا۔ صدر آزادکشمیر نے مسیح برادری کے ممبران کے مسائل نہایت صبر و تحمل سے سننے اور ان سے وعدہ کیا کہ وہ خود میر پور اور بھمبر کا دورہ کر کے وہاں آباد مسیح برادری سے تعلق رکھنے والے خاندانوں سے ملیں گے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لئے ضروری اقدامات کریں گے ۔ صدر آزادکشمیر نے وفد کو بتایا کہ بعض قانونی رکاوٹوں کی وجہ سے باہر سے آکر کشمیر کے کسی حصے میں آباد ہونے والوں کو پشتنی باشندہ ریاست جموں وکشمیر تسلیم نہیں کیا جا سکتا ہے اور یہ قانونی قد غن صرف کسی ایک مذہب سے تعلق رکھنے والوں کے لئے نہیں بلکہ ہر غیر کشمیری کے لئے ہے۔

Download as PDF